28 جون 2012 - 19:30

2001 میں افغانستان پر امریکی یلغار سے لے کر اب تک اس ملک میں افیون کی کاشت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور اطلاعات کے مطابق اس وقت دنیا کی 90 فیصد افیون افغانستان میں پیدا ہوتی ہے۔ یہ امریکی سپاہی معلوم نہیں کس چیز کی حفاظت کے لئے یہاں ٹہل رہے ہیں لیکن امر مسلم یہ ہے کہ وہ یہاں افیون کی فصل کو تباہ کرنے کے لئے نہيں آئے بلکہ افیون کے لئے تو وہ بڑے پرامن نظر آرہے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق موصولہ رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکیوں اور برطانویوں نے افغانستان میں منشیات کی پیداوار کے اضافے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے اور جنوبی افغانستان میں تو برطانوی افسران باقاعدہ طور پر اس گندی تجارت میں مصروف میں ہیں اور بقیہ علاقوں میں امریکی اپنا کردار ادا کررہے ہیں اور دیوہیکل جہازوں کے ذریعے منشیات دوسرے ملکوں کو منتقل کررہے ہيں اور ان سب باتوں کا ثبوت یہ پیش کیا جارہا ہے کہ اگر امریکی اور نیٹو یا ایساف فورسز کی مرضی نہ ہوتی تو افغانستان میں افیون کی کاشت کا خاتمہ ہوچکا تھا جبکہ اس میں کئي گنا اضافہ ہوا ہے اور اس کی ایک ہی وجہ ہوسکتی ہے کہ مال پرست مغربی حکمران اور ان کے بھیجے ہوئے وحشی اور خونخوار اہلکار مفت کی اس دولت سے چشم پوشی نہیں کرسکے ہیں اور ان کے لئے اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے افغانستان میں پیدا ہونے والی افیون اور ہیروئن دنیا کے کتنے لاکھ نوجوانوں کے تدریجی قتل کا سبب بن رہی ہے۔

........

/110

سونگھو میرے محسن سونگھو!